+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login
+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login

خیبر پختونخواہ کی خوبصورت ترین وادی کمراٹ ۔۔ سیا حوں کے لئے جنت ۔۔

 

وادی کمراٹ تک پہنچنے کے لیے آپ کو سب سے پہلے تیمر گرہ پہنچنا ہے۔ تیمر گرہ سے اپر دیر تک ایک کشادہ سڑک جاتی ہے۔ دیر بالا کے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے 5 سو میٹر قبل ایک شاہراہ اس حسین اور دل کش وادی کی جانب جاتی ہے۔ پہاڑوں کے درمیان سے یہ بل کھاتی سڑک بہت ہی حسین مناظر کی امین ہے۔ اسی سڑک پر پہلا پڑاؤ ایک خوبصورت وادی شرینگل میں ہوتا ہے، یہاں پر خوبصورت بازار اور ایک چھوٹا سا قصبہ بھی آباد ہے، آپ کو شرینگل سے ہوتےہوئے پاتراک،بیاڑ،بریکوٹ،کلکوٹ اور تھل سے گزرنا ہوگا ۔موٹر کاریں وغیرہ آپ کو صرف تھل تک لے جاسکتے ہیں۔تھل سے وادی کمراٹ جانے کے لیے آپ کو خود کی ٹرانسپورٹ انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہاں پبلک ٹرانپسورٹ بلکل موجود نہیں ہے ۔زیادہ تر سیاح موٹر سائیکل کے زریعے وادی کمراٹ کا رخ کرتے ہیں جو ان کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں کیونکہ سڑک کی خرابی کی وجہ سے موٹرسائکل باآسانی چل سکتی ہے۔تھل سے 2 راستے نکلتے ہیں۔ایک راستہ وادی کمراٹ کو جاتا ہے جہاں قدم قدم پر قدرت کے کرشمے انسانوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جہاز بانال ہے۔ ( بانال کوہستانی زبان میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پہاڑوں پر 5 سے دس گھر ہوں اورگرمیوں میں لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ رہتے ہوں )۔ تھل سے دریا کے ساتھ ساتھ کچھ پختہ اور بیشترکچا راستہ ایک وادی کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔کمراٹ کے لئے ایک راستہ ضلع سوات سے بھی ممکن ہے۔ کالام اور اتروڑ سے ہوتا ہوا یہ راستہ ایک دشوار، نہایت بلند لیکن انتہائی گھنے جنگلات میں سے گزرتا ہے۔ اس راستے سے کمراٹ کا سفر اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد سفر ہے۔ اس سفر کے لئے چھوٹی جیپ اور چاک و چوبند ڈرائیور کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ کمراٹ کے جنگلات جنگلی حیات سے بھی بھرپور ہیں۔یہاں مارخور، ہرن اور چیتے وغیرہ پائے جاتے ہیں۔بندر تو عام طور پر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویسی تو پوری وادی خوبصورت ہیں ۔۔ لیکن جہاز بانڈہ میڈوز ، جہاز بانڈہ جھیل ، کٹورہ جھیل ، کمراٹ ویلی کی ہر قدم ہر آبشاریں دریا ئے پنچکوڑہ کا نیلا پانی اور بلند و بالا سرسبز اور برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑ اپنی مثال آپ ہیں ۔۔ ڈسٹرکٹ گو رنمنٹ نے کمراٹ ویلی کی ڈویلپنٹ کے لئے بھر پور اقدامات کئے ہیں ۔ اور کر رہی ہیں ۔۔ چئر لفٹ سے لیکر رہائیش کی بہترین انتظامات اور روڈ کی تعمیر ۲۰۱۸ تک کے اہداف میں شامل ہیں ۔۔ کمراٹ وادی کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے لئے ہماری کمپنی TRIP TRAILS PAKISTAN بھی ضلع حکومت کے ساتھ مل کر بھر پور کردار ادا کریگی
یہاں پر میں یہ بات کہتا چلو ۔۔ کہ دیر کوہستان کے لوگ محبتیں بکھیرنے والے، پیار کرنے والے اور مہمان نواز ہیں۔ اجنبی کو دیکھ کر بے اختیار ان کے ہاتھ سلام کے ساتھ مصافحہ کیلئے بلند ہوجاتے ہیں۔ آپ گاڑی پر ہوں یا پیدل ہر چھوٹا، بڑا، نوجوان اور بوڑھا ہاتھ بلند کرکے آپ کو السلام و علیکم کہے گا۔ لوگ مہمان نواز اور پرخلوص ہیں۔ مذہبی رجحان اور مقامی روایات کے حامل اہل کوہستان مہمان نوازی کو بنیادی اخلاقیات میں سرفہرست سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مہمانوں کی راہنمائی کے لئے اپنے کاروبار اور کام کاج تک کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس طرح کی کسی بھی خدمت کے عوض معاوضے کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کرتے۔
سبزی مائل دریا پنجکوڑہ کے کنارے آباد پرسکون وادی دیر کوہستان جہاں کے لوگوں میں اب بھی وہ سادگی اور اخلاص ہے جو دورِ موجودہ میں ایک خیال کی صورت میں ہی باقی رہ گیا ہے۔ اگر آپ وادی کمراٹ جانا چاہتے ہیں تو یہ چند درج ذیل نکات ذہن میں رکھئے
سفر کے دوران خیمے اور کیمپنگ کا سامان ہمراہ رکھیں۔
وادی میں ہوٹلز کم ہیں اکثر اوقات آپ کو خود کھانا بنانا پڑتا ہے ۔
گرم کپڑے چادر وغیرہ لازماً رکھیں۔ اگر آپ خاتون ہیں تو سفر کے دوران پردے کا اہتمام کریں اور مقامی روایا ت کی پاسداری کا خیال رکھیں۔
اگر آپ کا گروہ مرد و خواتین پر مشتمل ہے تو آبادیوں میں ہلا گلا کرنے سے گریز کریں۔
کسی بچے کو تحفہ نہ دیں کیوں کہ بچوں کو نقدی کی صورت میں تحفہ یہاں کے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتا۔
یہاں کوہستانی قبیلے کے افراد آباد ہیں مہمان نوازی کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کسی کی دعوت کو ٹھکرا کر اس کی دل آزاری نہ کریں۔
تصاویر کشی صرف قدرتی مناظر کی کریں، اس علاقے میں صرف دو نجی موبائل کمپنیوں وارد اور ٹیلی نار کی سروس ہے اس لئے کوشش کریں کہ بیرونی دنیا سے رابطے کے لئے انہی کمپنیوں کے نمبرز آپ کے پاس موجود ہوں۔
موبائل اور کیمرے کا استعمال احتیاط سے کریں کیوں کہ آپ کو چارجنگ کے مسائل پیش آسکتے ہیں ۔۔
وادی میں گند پھینکنے سے گریز کریں ۔ تاکہ وادی کی خوبصورتی ہمیشہ کے لئے برقرار رہ سکے ۔۔
اُمید ہیں جلد آپ لوگ اس خبصورت وادی کو ایکسپلور کرنے کے لئے اپنا سفر شروع کرینگے ۔۔

Leave a Reply