+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login
+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login

دیو سائی کے بغیر دنیا کا حسن نامکمل

دیو سائی استوار اور سکردو کے درمیان 3000 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا دنیا کا دوسرا اونچا اور وسیع میدان ہےدنیا کے درجن کے قریب ممالک کا رقبہ دیو سائی سے کم یا اس کے قریب ہے جن میں مالٹا اور مالدیپ جیسے ملک بھی شامل ہیں شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے چلاس سے تھوڑا آگے دائیں طرف ایک سڑک استور کو جاتی ہی 2 گھنٹے کے سفر کے بعد استور کا بلند و بالا چوٹیوں کے دامن میں ایک خوبصورت اور تاریخی شہر آباد ہے جس کی زیادہ تر آبادی پڑھی لکھی ہے استور کے ایک طرف راما جھیل اور اس کے آس پاس پھیلا سرسبز میدان ہے جہاں سے نانگا پربت کا بھی نظارہ کیا جا سکتا ہے مجھے برسوں پہلے وہاں گزارے دن وہاں کا کامران ہوٹل اور وہاں کے وکیل اورنگزیب کی مہمان نوازی ابھی تک یاد ہے جو اپنے سارے کام چھوڑ کر دو دن ہمارے ساتھ رہااور ہمیں گائیڈ کرتا رہا استور سے ایک سڑک کارگل کی طرف جاتی ہے سڑک کے آخر میں آرمی چیک پوسٹ ہے چلم چوکی نام کی جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ دور تک توپ کے گولوں کے خول ہر طرف بکھرے پڑے تھے چلم چوکی سے بائیں جانب چند منٹ کے بعد دیو سائی کا میدان شروع ہو جاتا ہے آغاز میں ہی بہت خوبصورت جھیل شیو سر آتی ہے میرے خیال میں دیو سائی جانے کا یہ سب سے آسان اور نزدیکی روٹ ہے اس بار مجھے سکردو کی طرف سے جانا پڑا کیونکہ سکردو میں اور بہت سے سیاحتی مقامات بھی نظر میں تھے سکردو سے ست پارہ جھیل کی طرف سے 4/5گنٹھے کا خطرناک جیپ ٹریک ہے جس کے بعد دیو سائی کا سرسبز اور پھولوں سے آراستہ وسیع میدان آتا ہے یہاں جون اور جولائی میں بھی آپ کو برف باری دیکھنے کو مل سکتی ہے یہاں پر براؤن ریچھ برفانی چیتا۔ لومڑی جنگلی خرگوش جسے ماموٹ کہا جاتا ہے بھی پائے جاتے ہیں خوبصورت تتلیاں اور پرندے بھی اس کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں یہاں آپکو کھانے اور رہنے کا خود ہی انتظام کرنا ہوگا اگر آپ رات رہنا چاہتے ہوں تو شیو سر جھیل کا خوب صورت اور خوابناک نظارہ آپ کبھی بھلا نہیں پائیں گے اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ پتا نہیں چلتا کہ جھیل کا صاف شفاف پانی کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے جھیل کے گرد چکر لگانے کے لئے ایک دن درکار ہے جہلم سے بہت سے خانہ بدوش گجر قبائل سردیاں ختم ہوتے ہی اپنےمال مویشی اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ دیو سائی کی طرف چل پڑتے ہیں اور کئی ہفتوں کا سفر کرکے دیو سائی پہنچتے ہیں اور پھر ساری گرمیاں یہاں گزارتے ہیں یہاں 150 کے قریب جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں یہ گجر ان کو جمع کرتے رہتے ہیں اور ان سے بہت سا روپیہ کماتے ہیں اس کے علاوہ اپنی گائے بھینس۔ بھیڑ بکریوں کے دودھ سے دیسی گھی بنا کر اس کو سکردو میں فروخت کرتے ہیں آپ کو زرد رنگ کا دیسی گھی سکردو کی دوکانوں سے آسانی سے مل جائے گا بہت سی رقم ان کو مال مویشی فروخت کرکے بھی حاصل ہو جاتی ہے جس کے بعد اکثر یہ لوگ سکردو میں اپنے خاندان کے افراد کی شادیاں کرتے ہیں سال کے 4ماہ تک دیو سائی میں رونق رہتی ہےاور یہ بوسیدہ کپڑے پہننے گجر قبائل اس خوبصورت اور سرسبز میدان کے مکین رہتے ہیں ایک بہت وسیع لان اور سرسبز چراگاہیں ان کا گھر ہوتی ہیں جو ان کو بے مول ملی ہیں دیو سائی کو کچھ لوگ تو جنوں اور پریوں کی سرزمین اور کچھ خوبصورت پھولوں کی سرزمین کہتے اور اس کے نام کا مطلب بتاتے ہیں سنا ہے کے امریکہ نے اس میدان پر اپنے اڈے بنا کر روس چائنہ افغانستان اور بہت سے دوسرے ممالک کو زیر کرنے کے لئے پاکستان کی حکومت کو بہت اصرار کر کے مجبور کیا مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ورنہ دیو سائی پاکستانیوں کے لئے ایک خواب ہی بن کر رہ جاتا ہے.

Leave a Reply