+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login
+92-333-5029585 | +92333-7171203 info@triptrails.com.pk

Login

Sign Up

After creating an account, you'll be able to track your payment status, track the confirmation and you can also rate the tour after you finished the tour.
Username*
Password*
Confirm Password*
First Name*
Last Name*
Email*
Phone*
Country*
* Creating an account means you're okay with our Terms of Service and Privacy Statement.

Already a member?

Login

وادی نیلم آزاد کشمیر

وادی نیلم پورے پاکستان میں حسین ترین وادی ہے .
جنت نظیر کشمیر کی یہ خوبصورت وادی اسلام آبادسے تقریبا پانچ گھنٹے سے چھ گھنٹے کئ مسافت پرہیں..
آزاد کشمیر کا واحد ضلع جسکی سرحدیں تین بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اضلا ع بارہمولہ کپواڑ ہ اور بانڈی پورہ جبکہ دوسری طرف گلگت اور مغرب میں خیبر پختونخواہ سے ملتی ہیں .

اٹھمقام اور شاردہ دو تحصیلیں ہیں – گوجری کشمیری شینا کنڈل شاہی مقامی زبانیں ہیں چونکہ یہ علاقہ کشمیری شینا اور پشتو بولنے والوں کے درمیان ہے اسلئے ہر 10 کلومیٹر کے بعد زبان میں ایک بدلاؤ آ جاتا ہے تاہم برصغیر کی سب سے میٹھی اور مسلمانوں کی ہر دلعزیز زبان اردو یہاں بولی اور سمجھی جاتی ہے – جو لوگ راولپنڈی لاہور کا سفر کرتے ہیں وہ پنجابی بھی بولتے اور سمجھتے ہیں .
رقبہ کے لحاظ سے یہ آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے اسکا رقبہ 1398 مربع میل ہے مگر سب سے کم گنجان ہے یعنی آبادی دور دور واقع ہے –
بانڈی پورہ سے آنے والا دریا کشن گنگا تاو بٹ کے مقام پر وادی نیلم میں داخل ہوتا ہے کشن گنگا اس پار آزاد کشمیر میں داخل ہوتے ہی نیلم بن جاتا ہے –
ضلع بھر کی واحد قابل ذکر سڑک نیلم ویلی روڈ ہے جو مظفر آباد سے کیل تک جاتی ہے –
نیلم کے قابل ذکر مقامات میں کیل . باریاں . لیسوا . شہکوت . وادی شاردہ . اٹھمقام . جنوائی . ہلمٹ . اور تاو بٹ ہیں . کٹھن اور دھنی کی آبشاریں بھی اپنی مثال آپ ہیں. ارنگ کیل اور اپر نیلم وادی کی خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہیں. جہاں پر سیاحوں کی رہائش سے لیکر ہر قسم کی سہولیات مقامی لوگوں نے فراہم کی ہیں..
ارنگ کیل سے آپ آزاد کشمیر کئ بلند چوٹی سروالی کا بھی نظارہ کرسکتے ہے. سروالی کئ چوٹی کے علاوہ گنجا چوٹی , چونچ پہاڑی, نیم مالی , ہری پربت کئ پہاڑی بھی مشہور اور بلند ترین پہاڑوں میں شامل ہیں. شاردہ کے مقام پر بدھ مت دور کے ایک تاریخی یونیو رسٹی بھی ہے جسکو دیکھنے کے لئے پورے دنیا سے سیاح آتے ہیں. یہاں پر آثار قدیمہ کے تاریخی مقامات کئی مقامات پر موجود ہیں.. جسکو ایکسپلور کرنے کی ضرورت ہیں. شاردہ سے ایک راستہ سرال جھیل اور نوری ٹاپ سے وادی ناران میں داخل ہوتا ہیں.. وادی ناران سے سیاح اسی راستے نیلم میں داخل ہوتے ہیں. یہ ٹریک انتہائی خوبصورت ہیں جوکہ جولائی کے دوسرے ہفتے تک سیاحوں کے لیے کھول دیاجاتا ہے. ٹریکنگ کے شوقین اس ٹریک کو ضرور اپنے منصوبہ بندی کا حصہ بنائے..
رتی گلی جھیل گا عیاں جھیل سارال جھیل چٹھا کھٹا جھیل اور جے آر بی جھیل, شونتر جھیل وادی نیلم کی خوبصورت ترین جھیلیں ہیں –
تاؤ بٹ کا خوبصورت گاؤں وادی نیلم کا آخری گاؤں ہے.. حس کے ایک طرف مقبوضہ کشمیر اور دوسری طرف گلگت بلتستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہیں. یہاں سے ایک راستہ گارگل اور دیوسائ کئ طرف بھی نکلتا ہے..
نیلم کے کل 88 گاؤں اور 3 پولیس سٹیشن ہیں – زیادہ آبادی اٹھمقام شاردہ کیرن اور کیل میں آباد ہے – ایک اندازے کے مطابق ضلع نیلم کی موجودہ آبادی 1 لاکھ 75 ہزار افراد ہے – تعلیم میں ضلع نیلم جموں لداخ کشمیر اور گلگت بلتستان کی نسبت بہت پیچھے ہے یہاں خواندگی 52 فیصد ہے جسکی بڑی وجہ سکول کالجوں کی کمی اور عوام کی پسماندگی ہے – نیلم کے لوگ محنتی اور جفا کش ہیں .
وادی نیلم میں ہر سال لاکھو ں سیاح اس وادی کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں.. اور اسمیں ہر سال اضافہ ہور ہا ہیں. لیکن وادی نیلم میں سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہہ ہیں جبکہ دیگر سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں. دوسرے طرف جنگ بندی کا معاھدہ ختم ہونے کے بعد آئے روز انڈیا کی طرف سے بمباری بھی سیاحوں کو اس وادی کے حسن سے لطف اندوز ہونے سے روکتی ہیں. آزاد کشمیر کئ حکومت اور حکومت پاکستان کو حصو صا یہاں پر ہنگامی بنیادوں پر مخفوظ رابطہ سڑکوں کی تعمیر.. نیلم مظفر آباد شاہراہ کی کشادگی اور سیاحوں کے لئے بہترین رہائشی سہولیات کئ دستیابی کو ممکن بنانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیئے .. تاکہ اس وادی کی سیاحت کا دروازہ کسی صورت بند نہ ہو. اور وادی نیلم کے عوام کی احساس محرومیاں بھی ختم ہوسکیں.
نیلم ویلی جانے والے سیاحوں کےلئے کچھ معلومات…
#1 وادی میں داخل ہوتے ہی نوسیری کے مقام سے تمام نیٹ ورک بند ہوجاتے ہیں. رابطے کا ذریعہ صرف پی ٹی سی ایل ہے. اچھے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل وائ فائ کی سہولت دیتے ہیں. یا پھر بنک روڈ مظفر آباد سے S. Comکے آفس سے سم لیں جو ویلی کے اندر اندر کیل تک کام دیتی ہے. آگے اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ میں کام نہں کرتی …
#2.. کار شاردا تک جاتی ہے. آگے کیل، اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ تک فور وہیل جاتی ہے. جیپ کرایہ پہ مل جاتی ہیں. کیل پہنچ کے کیبل کار کے ذریعے 5 منٹ میں اڑنگ کیل پہنچا سکتا ہے.. وہاں سے 20 سے 30منٹ کا پیدل چڑھائ کا راستہ ہے. پھر اڑنگ کیل پہنچا جاسکتا ہے. اڑنگ کیل وادی کے ماتھے کا جھومر ہے. اسے بالکل مس نہ کریں. بہت خوبصور جگہ ہے. چوٹی پہ پہنچتے ہی بے ساختہ سبحان اللہ نکلتا ہے.
#3 اپنا اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھیں. جگہ جگہ پہ چیکنگ ہو تی ہے. کچھ مقامات پہ جیسا کہ کیل سےآگے جانا ہوتو چوکی والے کارڈ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں. واپسی پہ اپنا کارڈ لینا نہ بھولیں.
#4 ر تی گلی جھیل کا 8کلو میٹر تک کا راستہ کھلا ہے. شاردا سے پہلے دواریاں سے جیپ پہ جایا جا سکتا ہے. آگے 6کلومیٹر کا روڈ بوجہ برف غیر معینہ مدت تک بند ہے.. چاہیں تو پیدل جاسکتے ہیں.
5# سیکورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں.لائن آف کنٹرول اور دیگر سیکورٹی اداروں کے مقامات پر فوٹو گرافی اور غیر ضروری نقل وحرکت سے گریز کریں.
#6 وادی نیلم کے مقامی ثقافت کا بھرپور خیال رکھیں..
عظمت اکبر

Leave a Reply